MOJ E SUKHAN

خفا کریں یا اسے منائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے

خفا کریں یا اسے منائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے
زمانے والوں کو کیا بتائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے

بھلا ہو ہم نے کسے پکارا بھلا ہو اس نے کسے بلایا
یہ لوگ کیسے ہیں دائیں بائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے

جہاں پہ ہم ہیں جہاں پہ وہ ہے وہاں کوئی دوسرا نہیں ہے
کسی کا احسان کیا اٹھائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے

ہمیں ملن کی رتیں ملی ہیں ہمیں جدائی کو جھیلنا ہے
جہاں جزائیں وہاں سزائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے

ہمارے بارے میں سوچ کر آپ خود کو ہلکان کر رہے ہیں
ارے میاں آپ جائیں جائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے

یہ شعر اس کے لئے کہے ہیں یہ گویا اپنے لئے کہے ہیں
وہی کہے تو غزل سنائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے

اسی کی منشاء سے دور و نزدیک تک یہ برسات کا ہے موسم
اسی کے کہنے سے مسکرائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے

عرفان اللہ عرفان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم