خفا کریں یا اسے منائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے
زمانے والوں کو کیا بتائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے
بھلا ہو ہم نے کسے پکارا بھلا ہو اس نے کسے بلایا
یہ لوگ کیسے ہیں دائیں بائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے
جہاں پہ ہم ہیں جہاں پہ وہ ہے وہاں کوئی دوسرا نہیں ہے
کسی کا احسان کیا اٹھائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے
ہمیں ملن کی رتیں ملی ہیں ہمیں جدائی کو جھیلنا ہے
جہاں جزائیں وہاں سزائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے
ہمارے بارے میں سوچ کر آپ خود کو ہلکان کر رہے ہیں
ارے میاں آپ جائیں جائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے
یہ شعر اس کے لئے کہے ہیں یہ گویا اپنے لئے کہے ہیں
وہی کہے تو غزل سنائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے
اسی کی منشاء سے دور و نزدیک تک یہ برسات کا ہے موسم
اسی کے کہنے سے مسکرائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے
عرفان اللہ عرفان