MOJ E SUKHAN

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے
بزم سی بزم ہے تنہائی سی تنہائی ہے

وہ ہے خاموش مگر اس کے سکوت لب پر
رقص کرتا ہوا اک عالم گویائی ہے

جب اندھیرے مری آنکھوں کا لہو چاٹ چکے
تب ان آنکھوں میں رفاقت کی چمک آئی ہے

اب خدا اس کو بنایا ہے تو یاد آتا ہے
جیسے اس بت سے تو برسوں کی شناسائی ہے

نیند ٹوٹی ہے تو احساس زیاں بھی جاگا
دھوپ دیوار سے آنگن میں اتر آئی ہے

پس دیوار ابد دیکھ رہا ہوں اے دوست
میری آنکھوں میں مرے عہد کی بینائی ہے

میرے چہرے پہ ہے وہ عکس کہ آئینۂ ذات
کبھی میرا کبھی خود اپنا تماشائی ہے

میرے سچ میں تو کوئی کھوٹ نہیں تھا سرشارؔ
پھر یہ کیوں زہر سے تریاک کی بو آئی ہے

سرشار صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم