MOJ E SUKHAN

خمیر میرا اٹھا وفا سے

غزل

خمیر میرا اٹھا وفا سے
وجود میرا فقط حیا سے

کچھ اور بوجھل ہوا مرا دل
گھٹی ہوئی درد کی فضا سے

برس پڑے حسرتوں کے بادل
نظر پہ چھائی ہوئی گھٹا سے

ہے وحشتوں کا سفر مسلسل
بڑھا جنوں ہجر کی سزا سے

ہتھیلیوں پر نہ رچ سکی وہ
جو نام لکھا ترا حنا سے

بنا گئی تم کو اور چنچل
جھکی جو میری نظر حیا سے

گلوں پہ اک بے خودی سی چھائی
چمن میں بہکی ہوئی صبا سے

ہے وجد کیوں شاخ گل پہ طاری
لپٹ کے جھومی وہ کیوں ہوا سے

مہک کی کرنیں چمن میں رقصاں
گلاب کی ریشمی قبا سے

کلی کو چوما گلوں کو نوچا
کسی نے سیماب سی ادا سے

ہے تو مسیحا تو کر مداوا
ہے سوچ زخمی تری جفا سے

وہی ادا بے نیازیوں کی
تو کام کب تک نہ لوں انا سے

یقین کیسے کروں میں بانوؔ
سکون کیا دے سکیں دلاسے

بانو صائمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم