MOJ E SUKHAN

خوئے اظہار نہیں بدلیں گے

خوئے اظہار نہیں بدلیں گے
ہم تو کردار نہیں بدلیں گے

غم نہیں بدلیں گے یارو، جب تک
غم کے معیار نہیں بدلیں گے

لوگ آئینے بدلتے ہیں، مگر
اپنے اطوار نہیں بدلیں گے

تم نہ بدلو گے، تو زندانوں کے
در و دیوار نہیں بدلیں گے

قافلے راہ بدلنے پہ مصر
اور سالار نہیں بدلیں گے

چاہیں تو راہنما سستا لیں
ہم تو رفتار نہیں بدلیں گے
٭٭٭
احمد ندیم قاسمی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم