MOJ E SUKHAN

خوابِ غفلت میں نہیں ہیں ہم سدا بیدار ہیں

خوابِ غفلت میں نہیں ہیں ہم سدا بیدار ہیں
آپ اک آواز دیں چلنے کو ہم تیار ہیں

اپنے اپنے راستے چل دیں مناسب ہے یہی
اب نبھانے کے نظر آتے نہیں آثار ہیں

کون کتنا راہ پر ہے کون کتنا ہے غلط
چھوڑیے سرکار اب یہ فیصلے دشوار ہیں

کیسی بے چینی ہے چھائی دل کہیں لگتا نہیں
خود سے ہم منہ موڑتے ہیں خود سے ہی بیزار ہیں

ان کے دل میں ہیں جہاں بھر کی کدورت رنجشیں
اس لئے لگتے ہیں وہ کہ کس قدر بیمار ہیں

اے پرندے ساتھ اپنے ہم کو بھی لے چل کہیں
اب پروں کو کھول کر ہم اڑنے کو تیار ہیں

تو سمجھتا ہی نہیں ہے کیسے سمجھائیں تجھے
ہم بھی تیرے منتظر ہیں طالبِ دیدار ہیں

وہ پلٹ کر آ نہیں سکتے تو بس حافظ خدا
اب نہیں آواز دیں گے ہم بہت خوددار ہیں

کوئی دلجوئی کا ساماں کوئی کرتب تو دکھا
اب ہنسی کی ہے ضرورت غمزدہ ہم یار ہیں

ہم زباں کھولیں گے بولیں گے نہیں روکے کوئی
ہم بھی زندہ ہیں یہاں پر جینے کے حقدار ہیں

آپ اپنی بات مانیں میں سنوں گی دل کی اب
کس لئے حجت ہے پھر غصے میں کیوں سرکار ہیں

بات کو مانیں نہ مانیں آپ کی مرضی پہ ہے
اپنے اپنے فیصلوں میں سب ہی خود مختار ہیں

اپنے خوابوں کی بھلا شہناز کیا تعبیر ہو
اتنا تو میں جانتی ہوں یہ نہیں بیکار ہیں

شہناز رحمت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم