MOJ E SUKHAN

خواب آرام نہیں خواب پریشانی ہے

خواب آرام نہیں خواب پریشانی ہے
میرے بستر میں اذیت کی فراوانی ہے

مجھ کو تو وہ بھی ہے معلوم جو معلوم نہیں
یہ سمجھ بوجھ نہیں ہے مری نادانی ہے

کچھ اسے سوچنے دیتا ہی نہیں اپنے سوا
میرا محبوب تو میرے لیے زندانی ہے

ہے مصیبت میں گرفتار مصیبت میری
جو بھی مشکل ہے وہ میرے لیے آسانی ہے

موجۂ مے ہے بہت میرے سکوں پر بے تاب
ضبط گریہ سے مرے جام میں طغیانی ہے

میں گنہ گار تمنا ہوں مجھے قتل کرو
دل تو ہارا ہے مگر ہار نہیں مانی ہے

اکبر معصوم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم