MOJ E SUKHAN

خواب تعبیر میں بدلتا ہے

خواب تعبیر میں بدلتا ہے
اس میں لیکن زمانہ لگتا ہے

جب اسے چاہتیں میسر ہوں
خود بخود آدمی بدلتا ہے

پہلے یہ دل کہاں دھڑکتا تھا
اب ہر اک بات پر دھڑکتا ہے

ہاں مری خواہشیں زیادہ ہیں
ہاں وہ اس بات کو سمجھتا ہے

سر بسر وصل کی تمنا میں
وہ بدن روح میں اترتا ہے

رات بھی بن سنور کے آتی ہے
دن بھی اترا کے اب نکلتا ہے

ہو کے صید غم جہاں یہ کھلا
غم سے اک راستہ نکلتا ہے

یشب تمنا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم