MOJ E SUKHAN

خواب تو خواب ہے تعبیر بدل جاتی ہے

خواب تو خواب ہے تعبیر بدل جاتی ہے
دل کے آئینہ میں تصویر بدل جاتی ہے

اب صلیبوں پہ کہاں گل شدہ شمعوں کی قطار
آن کی آن میں تحریر بدل جاتی ہے

سر تو بدلے ہیں نہ بدلیں گے مگر وقت کے ساتھ
ظلم کے ہاتھ میں شمشیر بدل جاتی ہے

روز بنتا ہے کوئی آگ کے تیروں کا ہدف
ریت پر خون کی زنجیر بدل جاتی ہے

دل کے پتھر کی لکیریں تو نہیں مٹ سکتیں
کشش زلف گرہ گیر بدل جاتی ہے

تنکا تنکا ہے قفس بھی تو نشیمن کی طرح
ہاں فقط حسرت تعمیر بدل جاتی ہے

ان ہواؤں میں ہو دل کس کا نشانہ تنویرؔ
جب بھی دیکھو روش تیر بدل جاتی ہے

تنویر احمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم