MOJ E SUKHAN

خواب سا تھا سجا ہوا جیسے

خواب سا تھا سجا ہوا جیسے
سامنے تھا دیا جلا جیسے

ما تمی تھا وفور اشکوں کا
کوئ آنکھوں میں تھا مرا جیسے

آنکھوں آنکھوں میں کہہ رہا تھا کیا
ایک انداز تھا نیا جیسے

دشت میں تھا یہ میرا پہلا قدم
عشق بھی تھا کوئ خلا جیسے

ایک امید تھی جو باقی تھی
رکھ گئ تھی ہوا دیا جیسے

میرے حصّے کی دھوپ سہتا تھا
پیڑ تھا وہ کوئ گھنا جیسے

خامشی تھی حسیں ترنم کی
راگ دل پر چھڑا ہوا جیسے

ترنم شبیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم