MOJ E SUKHAN

خواب میں بھی نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی

غزل

خواب میں بھی نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی
ہمیں حاصل نہ کبھی وجہ مباہات ہوئی

فکر فردا ہے کبھی رنج و غم دوش کبھی
کس قدر روح بشر مورد آفات ہوئی

خستہ حالی پہ مری ان کو بھی رونا آیا
بعد مدت مرے ویرانے میں برسات ہوئی

وجہ آشوب تمنا ہوا فکر جنت
وجہ آسودگیٔ روح مناجات ہوئی

تشنگی مٹ نہ سکی کام و دہن کی فارغؔ
زندگی مفت میں مرہون خرابات ہوئی

لکشمی نارائن فارغ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم