MOJ E SUKHAN

خواب میں تیر چل گیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی

غزل

خواب میں تیر چل گیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی
جانے مجھے یہ کیا ہوا آنکھوں سے نیند اڑ گئی
ہائے شکستہ دل مرا کہتا رہا یہ بار بار
کس نے مجھے ڈرا دیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی
بیٹھے ہیں کس سکون سے ہاتھوں پہ اپنا دل لیے
جب سے وہ دلربا گیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی
ہجر کے ساتھ ساتھ غم اس کو نہ مل سکا تو پھر
دل نے عجب غضب کیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی
تیری خموشیوں میں بھی تھا کوئی رازِ گفتگو
تیرا خیال آ گیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی
یاد کی شمع جل گئی خامشیوں کے درمیان
اور میں دیکھتا رہا آنکھوں سے نیند اڑ گئی
نور ہی نور تھا ندیم پاؤں سے لے کے تا بہ سر
دیکھ کے حسن آپ کا آنکھوں سے نیند اڑ گئی
ندیم ملک
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم