غزل
خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ
جمع آسائش کہاں ہوتی ہے بیتابی کے ساتھ
کر دیا آنکھوں کے رونے نے مرے دل کو خنک
کب تلک گرمی کروں اس مردم آبی کے ساتھ
غنچہ رنگینی کو اپنی چاہئے تہ کر رکھے
اس کو کیا نسبت ہے ان لب ہائے عنابی کے ساتھ
پونچھتے اس منہ کے ہو جاتا ہے سب رنگیں رومال
گل کہاں ہوتا ہے ایسے رنگ و شادابی کے ساتھ
مفت نہیں لیتے وفا کو شہر خوباں میں یقیںؔ
کس قدر بے قدر ہے یہ جنس نایابی کے ساتھ
انعام اللہ خاں یقیں