MOJ E SUKHAN

خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ

غزل

خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ
جمع آسائش کہاں ہوتی ہے بیتابی کے ساتھ

کر دیا آنکھوں کے رونے نے مرے دل کو خنک
کب تلک گرمی کروں اس مردم آبی کے ساتھ

غنچہ رنگینی کو اپنی چاہئے تہ کر رکھے
اس کو کیا نسبت ہے ان لب ہائے عنابی کے ساتھ

پونچھتے اس منہ کے ہو جاتا ہے سب رنگیں رومال
گل کہاں ہوتا ہے ایسے رنگ و شادابی کے ساتھ

مفت نہیں لیتے وفا کو شہر خوباں میں یقیںؔ
کس قدر بے قدر ہے یہ جنس نایابی کے ساتھ

انعام اللہ خاں یقیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم