MOJ E SUKHAN

خواب پہلے لے گیا پھر رت جگا بھی لے گیا

خواب پہلے لے گیا پھر رت جگا بھی لے گیا
جاتے جاتے وہ مرے گھر کا دیا بھی لے گیا

دھوپ ہے اب اور نہ بادل ہے نہ خوشبو اور نہ پھول
سارے موسم لے گیا آب و ہوا بھی لے گیا

زندگی اے زندگی طے ہو مسافت کس طرح
سمت منزل لے گیا وہ راستہ بھی لے گیا

ایک مدت ہو گئی بیٹھا ہوں سنگ میل پر
راستوں کے ساتھ اپنے نقش پا بھی لے گیا

ہاتھ پتھر ہو گئے لب کپکپاتے رہ گئے
وہ دعا بھی لے گیا دست دعا بھی لے گیا

کیسے دیکھوں گا میں زلفیؔ اپنے چہرے کی کتاب
وہ گیا تو آرزو کا آئنہ بھی لے گیا

تسلیم الٰہی زلفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم