MOJ E SUKHAN

خواب کی جادو گری رہتی ہے

خواب کی جادو گری رہتی ہے
نیند آنکھوں میں بھری رہتی ہے

جیسے رہتا ہی نہیں ہوں میں یہاں
اک عجب بے خبری رہتی ہے

ہم خیالوں میں سفر کرتے ہیں
ہمسفر دربدری رہتی ہے

دل ہے وہ آئینہ خانہ جس میں
اک عجب عکس گری رہتی ہے

خشک ہو جاتے ہیں پتے لیکن
شاخ امکاں تو ہری رہتی ہے

روح کے زخم کہاں بھرتے ہیں
عمر بھر چارہ گری رہتی ہے

ختم ہوتا ہے کہاں کار جہاں
اک نہ اک دردِسری رہتی ہے

کاشف حسین غائر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم