MOJ E SUKHAN

خواب ہو خواب میں آتے ہو چلے جاتے ہو

غزل

خواب ہو خواب میں آتے ہو چلے جاتے ہو
دید کا جام لنڈھاتے ہو چلے جاتے ہو

کسی امید پہ دنیا میں مجھے زندہ رکھو
آتے ہو آس بندھاتے ہو چلے جاتے ہو

میری آنکھوں میں جو لاشہ ہے مرے خوابوں کا
اس پہ روتے ہو رلاتے ہو چلے جاتے ہو

قصۂ درد کسی طور نہ بھولے مجھ کو
روز آتے ہو سناتے ہو چلے جاتے ہو

کیوں مری آنکھوں میں ہر روز نئے آس کے پھول
دوستو آ کے کھلاتے ہو چلے جاتے ہو

میرے زخموں کے لیے لاؤ ناں مرہم بھی کبھی
ان پہ بس جشن مناتے ہو چلے جاتے ہو

راہ بھولے نہ کوئی دشت کا راہی طارقؔ
اس لیے دیپ جلاتے ہو چلے جاتے ہو

اقبال طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم