MOJ E SUKHAN

خواب ہی خواب میں رات چلتی رہی پھول کھلتے رہے

خواب ہی خواب میں رات چلتی رہی پھول کھلتے رہے
کون تھی جو مرے ساتھ چلتی رہی پھول کھلتے رہے

آنکھ حیران تھی، دنگ تھا آسماں ، گلشن _ وصل میں
تھام کر وه مرا ، ہاتھ چلتی رہی پھول کھلتے رہے

روز و شب فرصتیں،وصل کی قربتیں،عشق کے کھیل میں
جیت اس کی ، مری مات چلتی رہی ، پھول کھلتے رہے

پاس آ کے مرے ، وقت ٹہرا دیا ، منزلیں دور کیں
وه لئے سب کرامات چلتی رہی پھول کھلتے رہے

روٹھنا ماننا ، ماننا . روٹھنا ، بن کے جزو _ سفر
بزم _ رسم و روایات ، چلتی رہی ، پھول کھلتے رہے

مقبول زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم