MOJ E SUKHAN

خود اپنا عکس ہوں کہ کسی کی صدا ہوں میں

غزل

خود اپنا عکس ہوں کہ کسی کی صدا ہوں میں
یوں شہر تا بہ شہر جو بکھرا ہوا ہوں میں

میں ڈھونڈنے چلا ہوں جو خود اپنے آپ کو
تہمت یہ مجھ پہ ہے کہ بہت خود نما ہوں میں

مجھ سے نہ پوچھ نام مرا روح کائنات
اب اور کچھ نہیں ہوں ترا آئینہ ہوں میں

جب نیند آ گئی ہو صدائے جرس کو بھی
میری خطا یہی ہے کہ کیوں جاگتا ہوں میں

لاؤں کہاں سے ڈھونڈھ کے میں اپنا ہم نوا
خود اپنے ہر خیال سے ٹکرا چکا ہوں میں

اے عمر رفتہ میں تجھے پہچانتا نہیں
اب مجھ کو بھول جا کہ بہت بے وفا ہوں میں

خلیل الرحمن اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم