MOJ E SUKHAN

خود اپنے گھر میں ہیں اس طرح آج آئے ہوئے

خود اپنے گھر میں ہیں اس طرح آج آئے ہوئے
کہ جیسے گھر میں کسی کے ہوں ہم بلائے ہوئے

کہ جیسے اب کوئی خورشید آ ہی جائے گا
ہیں اپنے گھر کے اندھیروں سے لو لگائے ہوئے

خدا کرے در و دیوار کان رکھتے ہوں
زمانہ گزرا ہے روداد غم سنائے ہوئے

ان آندھیوں میں نہ جانے کدھر سے آ جاؤ
میں جا رہا ہوں ہر اک سو دیا جلائے ہوئے

گراں گزرتی ہے اب شہر کی ہر اک آواز
سنا رہے ہیں وہ قصے جو ہیں سنائے ہوئے

ہو جیسے جرم محبت میں میری ناکامی
ہر اک سے رہتا ہوں نوریؔ نظر بچائے ہوئے

کرار نوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم