MOJ E SUKHAN

خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرا

خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرا
میری سوچیں ہیں گھنی خوف ہے گنجان مرا

ہے کسی اور سمے پر گزر اوقات مری
دن خسارہ ہے مجھے رات ہے نقصان مرا

میرا تہذیب و تمدن ہے یہ وحشت میری
میرا قصہ، مری تاریخ ہے نسیان مرا

میں کسی اور ہی عالم کا مکیں ہوں پیارے
میرے جنگل کی طرح گھر بھی ہے سنسان مرا

دن نکلتے ہی مرے خواب بکھر جاتے ہیں
روز گرتا ہے اسی فرش پہ گلدان مرا

مجھ کو جس ناؤ میں آنا تھا کہیں ڈوب گئی
خواب ہے نیند کے ساحل پہ پریشان مرا

اکبر معصوم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم