MOJ E SUKHAN

خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں

غزل

خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں
آج خود کو بھلائے بیٹھی ہوں

جانے والوں کا انتظار نہیں
اپنے رستے میں آئے بیٹھی ہوں

اس کی آنکھوں میں ہے طلسم کوئی
اپنا چہرہ لٹائے بیٹھی ہوں

چاند کو طیش آ رہا ہے کہ میں
کیوں نظر کو ملائے بیٹھی ہوں

پھول کھلتے ہیں مجھ میں شعروں کے
ایک مصرعہ سمائے بیٹھی ہوں

راہ گزر احترام کر میرا
میں کسی کے بلائے بیٹھی ہوں

ہر خوشی زرد ہو گئی جیسے
اک اذیت بھلائے بیٹھی ہوں

آئنے پر تو ہے بھروسا مجھے
اس سے کیوں منہ چھپائے بیٹھی ہوں

چبھ رہی ہے اندھیری رات مجھے
ہر ستارہ بجھائے بیٹھی ہوں

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم