Khud Ko Tehreer Kar Raha Hoon Main
غزل
خود کو تحریر کر رہا ہوں میں
لوگ کہتے ہیں مر رہا ہوں میں
ڈس رہا ہے وہ ناگ بن کے مجھے
جس کے دیوار و در رہا ہوں میں
جس کی تعمیر کی تھی میں نے کبھی
اس کی ہیبت سے ڈر رہا ہوں میں
رنگ ریزہ تری عنایت سے
دیکھ کیسے سنور رہا ہوں میں
زندگی تیرے بہتے دریا سے
ڈوب کر پھر ابھر رہا ہوں میں
جانتا ہوں کہ عشق قاتل ہے
پھر بھی اس دل پہ دھر رہا ہوں میں
اب چراغوں کو ساتھ جلنا ہے
اس لیے پر کتر رہا ہوں میں
آشنا خود سے ہو نہ جاؤں کہیں
اپنے اندر اتر رہا ہوں میں
اپنے کانوں میں دے کہ خود کو صدا
پیٹ کاغذ کا بھر رہا ہوں میں
ہائے موجِ نسیم کی خاطر
خود میں ہی در بدر رہا ہوں میں
نسیم شیخ
Naseem Shaikh