MOJ E SUKHAN

خود کو تماشا خوب بناتا رہا ہوں میں

غزل

خود کو تماشا خوب بناتا رہا ہوں میں
قیمت بھی سادگی کی چکاتا رہا ہوں میں

یوں بھیڑ میں تو لٹنا بڑی عام بات ہے
صحرا میں خود کو تنہا لٹاتا رہا ہوں میں

منزل کی جستجو بھی عجب شے ہے دوستو
ٹھوکر سے زخم اپنے لگاتا رہا ہوں میں

کر کے کسی کو خوار بہت ہنستا ہے بشر
سہہ کے ستم بھی خود کو ہنساتا رہا ہوں میں

کرتا تھا جب صباؔ کو زمانہ بھی نامراد
ہمت سے عزم اور بڑھاتا رہا ہوں میں

ببلس ھورہ صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم