MOJ E SUKHAN

خوشبو ہے کبھی گل ہے کبھی شمع کبھی ہے

خوشبو ہے کبھی گل ہے کبھی شمع کبھی ہے
وہ آتش سیال جو سینے میں بھری ہے

بادہ طلبی شوق کی دریوزہ گری ہے
صد شکر کہ تقدیر ہی یاں تشنہ لبی ہے

غنچوں کے چٹکنے کا سماں دل میں ابھی ہے
ملنے میں جو اٹھ اٹھ کے نظر ان کی جھکی ہے

اب ضبط سے کہہ دے کہ یہ رخصت کی گھڑی ہے
اے وحشت غم دیر سے کیا سوچ رہی ہے

معصوم ہے یاد ان کی بھٹک جائے نہ رستہ
خوں گشتہ تمناؤں کی کیوں بھیڑ لگی ہے

یادوں سے کہو سولہ سنگھار آج کرائیں
آئینہ بہ کف حسرت دیدار کھڑی ہے

لب سی لیے اندیشۂ دشنام جہاں سے
اب اپنی خموشی ہی اک افسانہ بنی ہے

ٹھہری ہے تو اک چہرے پہ ٹھہری رہی برسوں
بھٹکی ہے تو پھر آنکھ بھٹکتی ہی رہی ہے

وحید اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم