خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا
پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا
۔
اپنے تو عہد شوق کے مرحلے سب عجیب تھے
ہم کو وصال سا لگا ایک دیا بجھا ہوا
۔
ایک ہی داستان شب ایک ہی سلسلہ تو ہے
ایک دیا جلا ہوا ایک دیا بجھا ہوا
۔
شعلہ ہوا نژاد تھا پھر بھی ہوا کے ہاتھ نے
بس یہی فیصلہ لکھا ایک دیا بجھا ہوا
۔
محفل رنگ و نور کی پھر مجھے یاد آ گئی
پھر مجھے یاد آ گیا ایک دیا بجھا ہوا
۔
مجھ کو نشاط سے فزوں رسم وفا عزیز ہے
میرا رفیق شب رہا ایک دیا بجھا ہوا
۔
درد کی کائنات میں مجھ سے بھی روشنی رہی
ویسے میری بساط کیا ایک دیا بجھا ہوا
۔
سب مری روشنئ جاں حرف سخن میں ڈھل گئی
اور میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا
پیرزادہ قاصم