MOJ E SUKHAN

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا

۔

اپنے تو عہد شوق کے مرحلے سب عجیب تھے

ہم کو وصال سا لگا ایک دیا بجھا ہوا

۔

ایک ہی داستان شب ایک ہی سلسلہ تو ہے

ایک دیا جلا ہوا ایک دیا بجھا ہوا

۔

شعلہ ہوا نژاد تھا پھر بھی ہوا کے ہاتھ نے

بس یہی فیصلہ لکھا ایک دیا بجھا ہوا

۔

محفل رنگ و نور کی پھر مجھے یاد آ گئی

پھر مجھے یاد آ گیا ایک دیا بجھا ہوا

۔

مجھ کو نشاط سے فزوں رسم وفا عزیز ہے

میرا رفیق شب رہا ایک دیا بجھا ہوا

۔

درد کی کائنات میں مجھ سے بھی روشنی رہی

ویسے میری بساط کیا ایک دیا بجھا ہوا

۔

سب مری روشنئ جاں حرف سخن میں ڈھل گئی

اور میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا

پیرزادہ قاصم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم