MOJ E SUKHAN

خون میں اس قدر فشار رہا

خون میں اس قدر فشار رہا
جب تلک سر پہ وہ سوار رہا

کوئی چپکے سے آ گیا دل میں
ہم کو دستک کا انتظار رہا

چاندنی چار دن کی ہوتی ہے
کس پہ جوبن سدا بہار رہا

کتنے دن اس کی بے نیازی سے
ایک سو تین پر بخار رہا حاصل

اس کو بھی تمغہ ءِ شجاعت دو
زندگی ہنس کے جو گزار رہا

جانے والا چلا گیا لیکن
دیر تک ہجر کا غبار رہا

ایک بچپن کا عشق تھا فوزی
جس کا پچپن برس خمار رہا

فوزیہ شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم