MOJ E SUKHAN

خون کی حدتوں میں اتری ہے

خون کی حدتوں میں اتری ہے
اک اداسی رگوں میں اتری ہے

کیا خبر ہے کہ دن کہاں بچھڑا
رات کب کھڑکیوں میں اتری ہے

جو مسافت بھی پاؤں سے الجھی
بے جہت راستوں میں اتری ہے

پھر جزیرے نگل گیا ساگر
پھر زمیں پانیوں میں اتری ہے

اب کے رفعت ہماری بینائی
پھیلتے فاصلوں میں اتری ہے

رفعت وحید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم