MOJ E SUKHAN

خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا

خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا
وہاں بھی جائے کہ جس جا گماں نہیں جاتا

بس اپنے باغ میں محو خرام رہتا ہے
کہ خود سے دور وہ سرو رواں نہیں جاتا

حجاب اس کے مرے بیچ اگر نہیں کوئی
تو کیوں یہ فاصلۂ درمیاں نہیں جاتا

کوئی ٹھہرتا نہیں یوں تو وقت کے آگے
مگر وہ زخم کہ جس کا نشاں نہیں جاتا

نہ جانے اس کی زباں میں ہے کیا اثر فرخؔ
کہ اس سے ہو کے کوئی بدگماں نہیں جاتا

فرخ جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم