MOJ E SUKHAN

خیال ہجر مسلسل میں آئے ہیں کیا کیا

خیال ہجر مسلسل میں آئے ہیں کیا کیا
مری وفا کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

نہ صرف حسن کی معصومیت پہ تھے الزام
خلوص عشق پہ بھی حرف آئے ہیں کیا کیا

جنوں کے نام پہ شورش کی تہمتیں رکھ کر
خرد نے خود بھی تو فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

اس اک نظر سے بظاہر جو ملتفت بھی نہ تھی
مری نگاہ نے پیغام پائے ہیں کیا کیا

سرشار صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم