MOJ E SUKHAN

خیمہ ء جاں میں دلکشی رکھ دی

خیمہ ء جاں میں دلکشی رکھ دی
ہم نے بنیادِعاشقی رکھ دی

جن کو تعبیر مل نہیں سکتی
ایسے خوابوں میں زندگی رکھ دی

عشق رکھا غم ِفراق کا نام
قسمتِ دل شکستگی رکھ دی

دردِ دل میں سکون کی خاطر
میں نے پہلو میں شاعری رکھ دی

ایک لمحہ سکون کا نہ ملا
کس خرابے میں زندگی رکھ دی

چاک رہنی ھے جب قبائے دل
کس نے رسمِ رفو گری رکھ دی

وہ بھی تنہا تھا اس نے "کن "کہہ کر
وجہہ تخلیقِ آدمی رکھ دی

جب دھڑکتا ھے شور کرتا ھے
سو لبِ دل پہ خامشی رکھ دی

کردیا عشق نے اسے دریا
میرے ہونٹوں پہ تشنگی رکھ دی

وہ جو جاتی ھے اس کے گھر کی طرف
میرے رستے میں وہ گلی رکھ دی

پروین حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم