MOJ E SUKHAN

دربدر لوگ ہیں جو یار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

دربدر لوگ ہیں جو یار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں
غور سے دیکھو انھیں پیار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

آج خود اپنی عدالت میں کھڑے ہیں خاموش
صاف ظاہر ہے کہ کردار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

حلقہ ءجنگ میں لڑتے تو کہاں تک لڑتے
یہ تو وہ لوگ ہیں تلوار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

ان کے لہجوں سے کہاں فرق پڑے گا کوئی
یہ تو دربار کے بازار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

سچ جو پوچھو تو محبت کے خدو خال میں لوگ
ایسا لگتا دل بیمار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

یہ مکیں اپنی زمیں اپنے گھروں میں رہتے
ہائے یہ تو درودیوار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

دامنِ عشق نہ خالی کبھی ہوتا اپنا
ہم تری پاؤں کی جھنکار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

جن کو ادراک نہیں اپنی قدوقامت کا
وہ رضا قیمت دستار کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

حسن رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم