درد اور آنسو چھپے ہیں وقت کی رفتار میں
مسکراہٹ ڈھل رہی ہے تب ہی تو اشعار میں
ہر نظر ہی تیر ہے ، تلوار ہے اس کے لئے
کوئی دوشیزہ نکل آئے اگر بازار میں
اب مسیحا بن کے آجائے کوئی ، کیا فائدہ
زندگی کی اک رمق باقی نہیں بیمار میں
کون جیتا ، کون ہارا ، زندگی کا کھیل ہے
بس خبر آجائے گی ، کل شام کے اخبار میں
جانے کس کے نام پر ہو ختم میری داستاں
حیرتوں سے دیکھتی ہوں آج کل پرکار میں
آج تک تازہ ہیں سارے زخم دل کے دوستو
جانے کیسی تلخیاں تھیں وقت کی گفتار میں
آپ کو کوشش ارم کی ، شاید آجائے پسند
پیش کردی ہے غزل یہ آپ کی سرکار میں
ارم ایوب