MOJ E SUKHAN

درد جب جب جہاں سے گزرے گا

غزل

درد جب جب جہاں سے گزرے گا
قافلہ ہو کے جاں سے گزرے گا

فکر میں آئے گا سوال مرا
اور جواب اس کا ہاں سے گزرے گا

میں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا
کوئی شکوہ زباں سے گزرے گا

سامنے آئے گا مرا کردار
ذکر جب داستاں سے گزرے گا

پھر مجھے یاد آئے گا بچپن
اک زمانہ گماں سے گزرے گا

رہ گزر ہے اداس میری طرح
جانے کب وہ یہاں سے گزرے گا

لوگ حیرت میں ڈوب جائیں گے
جب بھی وہ درمیاں سے گزرے گا

یہ پرندہ جو قید میں ہے ابھی
ایک دن آسماں سے گزرے گا

گوند گلشن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم