MOJ E SUKHAN

درد جب سے دل نشیں ہے عشق ہے

غزل

درد جب سے دل نشیں ہے عشق ہے
اس مکاں میں کچھ نہیں ہے عشق ہے

دیکھ دشت یاد کا اعجاز دیکھ
میں کہیں ہوں تو کہیں ہے عشق ہے

تھک کے بیٹھا ہوں جو کنج ذات میں
مہرباں کوئی نہیں ہے عشق ہے

جو ازل سے ہجرتی ہیں اشک ہیں
جو ان اشکوں میں مکیں ہے عشق ہے

اے سراب جبر و استبداد سن
یہ جو پیاسوں کا یقیں ہے عشق ہے

کل جہاں دیوار ہی دیوار تھی
اب وہاں در ہے جبیں ہے عشق ہے

خواب ہی میں دیکھ لے تعبیر خواب
کون ایسا پیش بیں ہے عشق ہے

جیتے جی دشوار کتنا تھا سفر
اب نہ دنیا ہے نہ دیں ہے عشق ہے

رنج و غم کی سرمئی چادر تقیؔ
جب سے بالائے زمیں ہے عشق ہے

توقیر تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم