MOJ E SUKHAN

درد جتنے ہیں لا دوا ٹھہرے

درد جتنے ہیں لا دوا ٹھہرے
ہم برے آپ پارسا ٹھہرے

کیسے جھٹلائیں گے وفا میری
لاکھ یہ حسن کی ادا ٹھہرے

عشق کیوں حسن کا سوالی ہے
کچھ تو اس کا بھی فیصلہ ٹھہرے

حسن مغرور کیوں ازل سے ہے
اس پہ بھی تو کوئی سزا ٹھہرے

تم کو پانا ہمارے بس میں تھا
پھر بھی ہم خود ہی نارسا ٹھہرے

ہڑ بڑا کر ستم سے دنیا کے
آج پہلو میں میرے آ ٹھہرے

خاور کمال صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم