MOJ E SUKHAN

درد دل کا عیاں نہیں ہوتا

غزل

درد دل کا عیاں نہیں ہوتا
ہم سے غم کا بیاں نہیں ہوتا

کیسے سمجھائیں اہل محفل کو
ہر جگہ امتحاں نہیں ہوتا

گزری باتوں کو یاد کرنے سے
وہ فسانہ بیاں نہیں ہوتا

غم زدوں کو تسلیاں دے کر
کوئی جانان جاں نہیں ہوتا

کہنے والے تو بات کہہ کے گئے
دل سے آنسو رواں نہیں ہوتا

بے بسی راہ کی قدم روکے
رہبری کا نشاں نہیں ہوتا

دکھ وہاں سے بھی ہم کو ملتے ہیں
جس جگہ سے گماں نہیں ہوتا

اس سے کیا غم بیاں کریں اپنا
سن کے جو مہرباں نہیں ہوتا

کیوں ستاتے ہو غم زدوں کو اداؔ
دل تمہارا تپاں نہیں ہوتا

بیگم سلطانہ ذاکر ادا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم