MOJ E SUKHAN

درد دل کون آزماتا ہے

غزل

درد دل کون آزماتا ہے
کون بے چینیاں بڑھاتا ہے

رات بھر جاگتے رہے ہو تم
جانے کیا غم تمہیں ستاتا ہے

ہنستے ہنستے جو رونے لگتے ہو
کچھ کہو کون یاد آتا ہے

جس نجومی نے تھی ہتھیلی پڑھی
کیا مقدر بھی وہ جگاتا ہے

جسے کرنا ہو کوئی وعدہ وفا
تو وہ پھر لوٹ کر بھی آتا ہے

کوچۂ حسن تو گیا سالم
پر یہ دل ٹوٹ کر ہی آتا ہے

مان لیتی ہوں اس کا کہنا بھی
جانے پھر روٹھ کے کیوں جاتا ہے

ماہم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم