MOJ E SUKHAN

درد دل کی دوا ہے ماہ نو

درد دل کی دوا ہے ماہ نو
آسماں پر کھلا ہے ماہ نو

میری ہی طرح تیرا بھی ان سے
کیا کوئی واسطہ ہے ماہ نو

ان کا چہرہ دکھائی دیتا ہے
کیا کوئی آئنہ ہے ماہ نو

مسکراتا ہے دیکھ کر ہم کو
جیسے سب جانتا ہے ماہ نو

دن کو سوتا ہے وہ نہ جانے کہاں
رات کو جاگتا ہے ماہ نو

رہ کے میری طرح سے چپ انورؔ
جانے کیا سوچتا ہے ماہ نو

انور جمال انور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم