MOJ E SUKHAN

درد میں جب کمی سی ہوتی ہے

درد میں جب کمی سی ہوتی ہے
دل تڑپتا ہے آنکھ روتی ہے

وصل کی رات رات ہوتی ہے
قلب بیدار آنکھ سوتی ہے

سامنے ان کے لب نہیں کھلتے
بند گویا زبان ہوتی ہے

ایک قطرہ ہے ان کی مژگاں پر
یا کوئی لا جواب موتی ہے

بحر الفت میں کشتئ دل کو
موج امید ہی ڈبوتی ہے

آنکھ کہتی ہے غم کے افسانے
ایک ایسی گھڑی بھی ہوتی ہے

دل میں چٹکی سی لے رہا ہے کون
آنکھ کیوں بار بار روتی ہے

مل کے دو قلب جب بچھڑتے ہیں
زندگی زندگی کو روتی ہے

غم کی روداد پوچھنے والے
آنسوؤں کی زبان ہوتی ہے

دل جلا آسماں نہ جل جائے
آہ بے کس خراب ہوتی ہے

بے ضرورت سی گفتگو شاطرؔ
اعتبار آدمی کا کھوتی ہے

شاطر حکیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم