MOJ E SUKHAN

درد کا شہر ہے ارمان کی باتیں کر لیں

غزل

درد کا شہر ہے ارمان کی باتیں کر لیں
سارے روندے ہوئے انسان کی باتیں کر لیں

غم و آلام کی لکھی ہے کہانی ہم نے
بزم احباب میں عنوان کی باتیں کر لیں

خود غرض لوگوں میں حاتم کو کہاں ڈھونڈیں ہم
کوئے افلاس میں امکان کی باتیں کر لیں

نفع و نقصاں سے سروکار نہیں ہے ہم کو
خادم خلق ہیں احسان کی باتیں کر لیں

مصنف وقت اگر کھو گیا تاریکی میں
تاروں کی چھاؤں میں میزان کی باتیں کر لیں

آج محفل میں چلے آئے ہیں جامیؔ کیسے
ان سے ہم وقت کے بحران کی باتیں کر لیں

عبدالمتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم