MOJ E SUKHAN

درد کی اک لہر بل کھاتی ہے یوں دل کے قریب

درد کی اک لہر بل کھاتی ہے یوں دل کے قریب
موج سرگشتہ اٹھے جس طرح ساحل کے قریب

ما سوائے کار آہ و اشک کیا ہے عشق میں
ہے سواد آب و آتش دیدہ و دل کے قریب

درد میں ڈوبی ہوئی آتی ہے آواز جرس
گریۂ گم گشتگی سنتا ہوں منزل کے قریب

آرزو نایافت کی ہے سلسلہ در سلسلہ
ہے نمود کرب لا حاصل بھی حاصل کے قریب

کچھ تو اے نظارگان عیش ساحل بولئے
کشتیاں کتنی ہوئیں غرقاب ساحل کے قریب

ہے ابھی واماندگی کو اک سفر درپیش اور
ہے ابھی افتاد منزل اور منزل کے قریب

رنگ حسرت کا تماشا دیکھنا تھا گر تمہیں
رقص آخر دیکھتے تم آ کے بسمل کے قریب

ہیں وہ سب تشنہؔ سر منزل امیر کارواں
جو ملے تھے کارواں سے آ کے منزل کے قریب

عالم تاب تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم