MOJ E SUKHAN

درد ہی دیتا ہے اب وہ نہ دوا دیتا ہے

غزل

درد ہی دیتا ہے اب وہ نہ دوا دیتا ہے

ہائے کیسا وہ وفاؤں کا صلہ دیتا ہے

میں نے پینے کے لیے ہاتھ بڑھایا کب تھا
اپنے ہاتھوں سے کوئی آ کے پلا دیتا ہے

گرنے لگتے ہیں اگر اشک مری آنکھوں سے
اپنا دامن کوئی چپکے سے بڑھا دیتا ہے

جس نے اک بار بھی دیکھی ہے تجلی تیری
سارے عالم کو وہ نظروں سے گرا دیتا ہے

ان کی خوشیوں پہ ہی موقوف نہیں اپنی خوشی
ان کا بخشا ہوا ہر غم بھی مزا دیتا ہے

آرزو یہ ہے کہ میں ہوش میں آؤں نہ کبھی
اپنی ہاتھوں سے وہ دامن کی ہوا دیتا ہے

کیوں سمجھتے ہو حبیبؔ اشک کو تم میرے حقیر
یہ مرے قلب کے طوفاں کا پتا دیتا ہے

جے کرشن چودھری حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم