MOJ E SUKHAN

دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا

دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا
یک طرفہ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا

صدیوں ہوئی تہذیب سزا اور جزا کی
اک سجدۂ سرمست نے دیں کا نہیں چھوڑا

تصویر لگی رہ گئی دیوار کھنڈر پر
جو رشتہ مکاں سے تھا مکیں کا نہیں چھوڑا

سو روپ تھے وحدت میں بھی اس پارہ صفت کے
پر ہم کو بت دل نے یقیں کا نہیں چھوڑا

عشاق چلے آئے ہتھیلی پہ لیے سر
وہ حسن طلب تھا کہ نہیں کا نہیں چھوڑا

محکوم و تہی دست جو حق مانگنے نکلے
پھر تخت بھی اس تخت نشیں کا نہیں چھوڑا

جب ہاتھوں سے رخصت ہوئیں محبوب دعائیں
قطرے کو بھی محراب جبیں کا نہیں چھوڑا

ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم