MOJ E SUKHAN

دریچے میں کھڑی بارش کو

المیہ

دریچے میں کھڑی بارش کو
سڑکوں پر برستے دیکھتی ہوں
سوچتی ہوں
دکھ کو اپنے نام کیا دوں میں
تمناؤں کو گروی رکھ کے
خوابوں کے سبھی دربند کر کے
کتنی مشکل سے
چھڑا کر اپنا دامن
چھت اور آنگن کی تمنا سے
فقط اک گھر کی خواہش میں
یہ زنداں مول لے کر
اس پہ اپنے نام کی تختی لگائی ہے
بس اک خواہش ہے جو
ساون رتوں میں
دل بہت بے چین رکھتی ہے
کہ میں ساون کی
ٹھنڈی نرم بوچھاروں کا
ریشم لمس
اپنے تن بدن پر اوڑھ لیتی
ہے مگر کچھ یوں
میں بارش دیکھ تو سکتی ہوں
اس کو چھو نہیں سکتی

حمیرا راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم