دشت میں زندگی گزاری ہے
اس لیے عشق میرا کھاری ہے
ایک دھڑکن جو اب بھی جاری ہے
تیری آمد کی انتظاری ہے
رشک سے آ ئنہ تو ٹوٹ گیا
اب مرے حو صلے کی باری ہے
جان بخشی تو اب نہیں ہوگی
ہر پرندہ یہاں شکاری ہے
تم نے ڈالی سے نوچ لیں کلیاں
ہم نے پھولوں پہ جان واری ہے
زخم تلوار کا تو بھر بھی گیا
بات کا تیری گھاؤ کاری ہے
یہ کرامت ہے ہم فقیروں کی
مے کدوں میں جو غم گساری ہے
کون آسیب بن کے آیا ہے
خوف دیوار و در پہ طاری ہے
دن تری یاد میں کٹا عابد
رات سپنوں میں پھر گزاری ہے
حنیف عابد