MOJ E SUKHAN

دشت وحشت کو فقط قیس ہی بھایا ہوا ہے

غزل

دشت وحشت کو فقط قیس ہی بھایا ہوا ہے
ہم نے بھی عشق کا آزار اٹھایا ہوا ہے

سرکشی موج ہوا کی، یہ کہاں سمجھے گی
کس مشقت سے دیا ہم نے جلایا ہوا ہے

کیسے گلفام کہوں، کیسے ستارہ سمجھوں
وہ بدن اور ہی مٹی کا بنایا ہوا ہے

موج خوش بو کی طرح ہاتھ نہ آنے والے
ہم نے اک ساتھ بہت وقت بتایا ہوا ہے

آپ اسے کاسۂ تشہیر سمجھ بیٹھے ہیں
ہم نے اک عمر سے یہ زخم چھپایا ہوا ہے

کاش وہ چشم گریزاں بھی کبھی جان سکے
ہم کو کس خواب کی وحشت نے جگایا ہوا ہے

خالد معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم