MOJ E SUKHAN

دشمنی ہے اسے مجھ سے تو نبھانے آئے

غزل

دشمنی ہے اسے مجھ سے تو نبھانے آئے
پھول دینے نہ سہی زخم لگانے آئے

اپنی گلیوں میں ہمیں اپنا مکاں مل نہ سکا
آج ہم لوٹ کے جب اپنے ٹھکانے آئے

دعوے داروں سے اسے تھی بہت امید مگر
قریۂ غم میں ہمیں خاک اڑانے آئے

عیش کے رنگ کسی کو بھی ملے ہوں لیکن
میرے حصے میں تو خوشیوں کے فسانے آئے

ہم نے دل کھول کے حق بات کہی جب بھی کہی
عذر آیا نہ سیاست کے بہانے آئے

ایک بے نام اداسی ہے دل و جاں پہ محیط
ایسا لگتا ہے کہ پھر غم کے زمانے آئے

خوف جاں چھوڑ دیا اس سے یہ کہہ دیجے نیازؔ
اپنی تہذیب و زباں جو بھی مٹانے آئے

عبدالمتین نیاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم