MOJ E SUKHAN

دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے

غزل

دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے
غضب کی دھوپ میں برسات تھوڑی ہوتی ہے

رہ وفا کی روایت ہے سر جھکا رکھنا
بساط عشق پہ یہ مات تھوڑی ہوتی ہے

جو اپنا نام صف معتبر میں لکھتے ہیں
خود ان سے اپنی ملاقات تھوڑی ہوتی ہے

بہت سے راز دلوں کے دلوں میں رہتے ہیں
اسے بتانے کی ہر بات تھوڑی ہوتی ہے

دل و نظر میں جو بس جائے دل ربا ٹھہرے
کہ دل ربائی کوئی ذات تھوڑی ہوتی ہے

حجابؔ اہل جنوں میں شمار ہونے کی
اساس عزت سادات تھوڑی ہوتی ہے

حجاب عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم