MOJ E SUKHAN

دلنشیں خوبرو خوش رنگ نظارے لے کر

دلنشیں خوبرو خوش رنگ نظارے لے کر
پہلے آتا تھا نیا سال بہاریں لے کر

ہر طرف عید دوالی کا سماں ہوتا تھا
بے بسی رنج و الم درد کہاں ہوتا تھا

ہر نظر ہوتی تھی خوشیوں کے تبسم سے سجی
کب نظر آتی تھی أنکھوں میں یہ اشکوں کی نمی

پھر ہوا یوں کہ یہ تصویر بدلتے دیکھی
أگ میں درد کی ہر اک خوشی جلتے دیکھی

شعلے نفرت کے بھڑکتے ہوۓ دیکھے ہر سو
نغمے خوشیوں کے سسکتے ہوۓ دیکھے ہر سو

دلنشیں خوبرو خوش رنگ نظارے بدلے
دیکھتے دیکھتے احباب ہمارے بدلے

بھائی بھائی کبھی آپس میں ہوا کرتے تھے
ہندو مسلم سبھی مل جل کے رہا کرتے تھے

کچھ گئے سالوں نے جو درد دیۓ کیسے کہوں
بے بسی اتنی بتاؤ تو سہی کیسے سہوں

کیسے کہدوں میں نیا سال مبارک بولو
دوستوں وقت ہے جاگو ذرا آنکھیں کھولو

آؤ مل جل کے یہ نفرت کا چلن ختم کریں
دل کو جھلساتی ہوئی دل کی جلن ختم کریں

دل یہ چاہے اسی تصویر کی رنگت دیکھوں
کاش اک بار وہ پہلی سی محبت دیکھوں

اے خدا میری دعاؤں میں اثر پیدا کر
اس نئے سال میں پہلا سا دکھادے منظر

رئیسہ خمار آرزو

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم