MOJ E SUKHAN

دلوں میں درد کی دولت ہے چشم تر بھی تو ہو

دلوں میں درد کی دولت ہے چشم تر بھی تو ہو
دعائے نیم شبی میں کوئی اثر بھی تو ہو

کبھی تو گردش دوراں کو بھی مزاج ملے
کسی نگر کسی کوچے میں کوئی گھر بھی تو ہو

وفورِ شوق سے مجھ کو بلا رہے ہو تو پھر
ملن کی رات ہو تاروں کی رہ گزر بھی تو ہو

سراب رستوں کے سب خواب تیرے نام کروں
غموں کی دھوپ میں تُو سایہ شجر بھی تو ہو

خرد نے اہل جنوں کو نگل لیا ہے مراد
سبھی کے ہاتھ میں پتھر ہیں کوئی سر بھی تو ہو

شفیق مراد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم