MOJ E SUKHAN

دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے

دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے
یہ ایسی حقیقت ہے جو افسانہ لگے ہے

عالم نہ کوئی پوچھے مری وحشت دل کا
گھر اپنے اگر جاؤں تو ویرانہ لگے ہے

بڑھتے نہیں کیوں میرے قدم آگے کی جانب
نزدیک ہی شاید در جانانہ لگے ہے

ویسے تو کسی نے مجھے ایسا نہیں جانا
دیوانہ کہا تم نے تو دیوانہ لگے ہے

روداد الم ان سے جو قاصد نے بیاں کی
فرمانے لگے ہنس کے یہ افسانہ لگے ہے

میں نے تو بنائی تھی فقط آپ کی تصویر
دل میرا مگر آج صنم خانہ لگے ہے

اب اپنا بھی بیگانہ نظر آتا ہے وصفیؔ
بیگانہ تو بیگانہ ہے بیگانہ لگے 

عبدالرحمان خان بہرائچی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم